اپریل ابھی پوری طرح آیا بھی نہیں اور کراچی، لاہور، اسلام آباد میں پارہ چڑھنا شروع ہو چکا ہے۔ جو گرمی کبھی مئی کے آخر یا جون کی آمد کے ساتھ آتی تھی، اب مارچ ہی میں دستک دینے لگی ہے۔ اور یہ صرف موسمیاتی تبدیلی کا احساس نہیں، بلکہ سائنس بھی یہی کہہ رہی ہے۔
کینیڈا کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کی ایک حالیہ تحقیق، جو سائنسی جریدے انوائرنمنٹل ریسرچ لیٹرز میں شائع ہوئی ہے، نے بتایا ہے کہ زمین کے وسطی عرض بلد والے خطوں میں گرمی کا موسم 1960ء کی دہائی کے مقابلے میں اوسطاً 30 دن لمبا ہو چکا ہے۔
تحقیق کے مطابق 1990ء سے 2023ء کے دوران گرمی کا موسم ہر دہائی میں اوسطاً چھ دن مزید لمبا ہوتا رہا ہے۔ یہ رفتار ماضی کی تحقیقات میں سامنے آنے والی 4.8 دن فی دہائی سے کہیں زیادہ ہے، یعنی رفتار سست نہیں ہو رہی بلکہ بڑھ رہی ہے۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ اعداد و شمار خاص طور پر تشویشناک ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان میں گرمی کی لہریں پہلے سے زیادہ طویل اور شدید ہوتی جا رہی ہیں اور یہ خاص طور پر ان لوگوں پر زیادہ اثر ڈالتی ہیں جن کے پاس پنکھا، کولر یا ایئرکنڈیشنر جیسی سہولیات نہیں ہیں۔
ماضی میں پاکستان اور بھارت میں اپریل کے شروع میں درجہ حرارت معمول سے دس ڈگری بڑھ کر 43 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا تھا۔ جیکب آباد، بہاولنگر، بہاولپور، حیدرآباد اور کراچی ایسے شہر ہیں جہاں گرمی کی یہ لہریں سب سے شدت سے محسوس کی گئی ہیں۔
“اس تحقیق میں ایک اہم بات یہ بھی سامنے آئی کہ گرمی نہ صرف لمبی ہو رہی ہے بلکہ اچانک آتی ہے اور اچانک ختم بھی ہو جاتی ہے۔ موسموں کی یہ تیز رفتار تبدیلی انسانی جسم کو ڈھلنے کا وقت نہیں دیتی۔”
تحقیق میں جمع شدہ حدت کا بھی ذکر ہے جو شمالی نصف کرے کی زمین پر 1990ء کے بعد سے تین سو فیصد تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔
یونیسف کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بچے بڑوں کے برعکس درجہ حرارت میں تبدیلی سے خود کو فوری طور پر ہم آہنگ نہیں کر سکتے۔ شدید گرمی میں ان کے جسم سے فاضل حرارت خارج نہیں ہو پاتی جس کے نتیجے میں پانی کی کمی، بے ہوشی، اور گردوں پر اثرات پڑ سکتے ہیں۔
حاملہ خواتین کے لیے بھی خطرہ ہے۔ شدید گرمی کے دوران قبل از وقت زچگی اور کمزور بچے پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسموں کی اس بدلتی ہوئی ترتیب نے زرعی چکر یعنی فصلیں بونے اور کاٹنے کے وقت کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
یہ صرف موسم کی خبر نہیں۔ یہ ہمارے طرزِ زندگی، ہمارے گھروں کی تعمیر، ہماری فصلوں کے کیلنڈر اور ہمارے بچوں کی صحت سے جڑا سوال ہے۔
آپ کے علاقے میں گرمی کا موسم پہلے کے مقابلے میں کتنا بدل گیا ہے؟ کیا آپ نے بھی محسوس کیا کہ اب سردیاں چھوٹی اور گرمیاں لمبی ہو گئی ہیں؟ نیچے کمنٹ میں اپنا تجربہ ضرور لکھیں کیونکہ آپ کی ایک بات کسی اور کو بھی سوچنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
کلائمیٹ فنانس: وہ علم جو آپ کو ترقی کی بلندیوں تک لے جاسکتا ہے

Leave a Reply