گلوبل وارمنگ اور مارچ 2026

گلوبل وارمنگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی

گلوبل وارمنگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔کیونکہ اس کی وجوہات تمام تر وعدوں اور ارادوں کے باوجود اب تک کنٹرول سے باہر ہیں اور یہی موسمیاتی تبدیلی کو بڑھا رہی ہے۔

گلوبل وارمنگ سے مراد انسانی سرگرمیوں جیسے گاڑیوں، کارخانوں اور بجلی گھروں سے خارج ہونے والی زہریلی گیسوں کی وجہ سے زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کا عمل ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کا مطلب موسم کے معمول کے رجحانات میں خلل پڑ جانا ہے یعنی کچھ پتہ نہ ہو کب کیسا موسم ہوجائے جیسے اس سال مارچ میں پاکستان میں معمول سے کم درجہ حرارت رہا مگر دیگر خطوں میں معمول سے اتنا زیادہ رہا کہ کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کی تازہ رپورٹ کے مطابق مارچ 2026 تاریخ کا چوتھا سب سے گرم مارچ رہا، جس میں زمین کا اوسط درجہ حرارت صنعتی انقلاب سے پہلے کی سطح سے 1.48 ڈگری سیلسیس زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

صنعتی انقلاب سے مراد ٹھارویں صدی کے وسط سے انسان کا پیداواری مقاصد کے لیے مشینوں پر زیادہ انحصار ہے جب ہر طرف فیکٹریاں کھلنا شروع ہوگئی تھیں۔
کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس یورپی یونین کا وہ سرکاری ادارہ ہے جو خلائی سیٹلائٹس کے ذریعے زمین کے درجہ حرارت، سمندر اور برف کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔

یہ اعداد و شمار نہ صرف سائنسدانوں کو بلکہ دنیا بھر کے لاکھوں عام شہریوں کو بھی فکرمند کر رہے ہیں، خاص طور پر پاکستان جیسے ملک کو جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سب سے زیادہ شکار ہے۔

موسمیاتی تبدیلی سے مراد زمین کے موسمی نظام میں وہ دیرپا اور وسیع تبدیلیاں ہیں جو گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں بارشوں، گرمی، سیلاب اور خشک سالی کے معمول کو بگاڑ رہی ہیں۔

کوپرنیکس کا کہنا ہے کہ مارچ کے یہ تینوں اعداد و شمار یعنی 1.48 ڈگری کا اضافہ، آرکٹک برف کا سب سے کم رقبہ اور سمندری درجہ حرارت کا تاریخی بلند سطح کے قریب رہنا الگ الگ بھی چونکانے والے ہیں اور مل کر یہ بتاتے ہیں کہ زمین کا موسمیاتی نظام مسلسل اور تیز رفتار دباؤ میں ہے۔

بلوچستان میں کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر کیسے شروع ہوئی

سمندری درجہ حرارت: دوسرا سب سے گرم مارچ

مارچ 2026 میں سمندری درجہ حرارت تاریخ میں دوسری بار سب سے بلند سطح پر رہا۔ 60 ڈگری شمال سے 60 ڈگری جنوب کے درمیان یعنی دنیا کے 95 فیصد سمندری رقبے کا اوسط سطحی درجہ حرارت 20.97 ڈگری سیلسیس تک پہنچا۔

سمندری سطحی درجہ حرارت سے مراد سمندر کی اوپری تہہ میں پانی کی گرمی ہے جو طوفانوں، بارشوں اور زمینی موسم پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔
پاک۔ناروے کاربن مارکیٹ معاہدہ؛ کیا کاغذوں سے باہر نکل پائے گا

اس سے قبل سب سے گرم مارچ 2024 میں ال نینو کے دوران ریکارڈ کیا گیا تھا۔

ال نینو بحرالکاہل کے استوائی علاقے میں سمندری پانی کے غیر معمولی طور پر گرم ہو جانے کا وہ قدرتی موسمی مظہر ہے جو ہر چند سال بعد آتا ہے اور پوری دنیا میں گرمی، خشک سالی اور بے ترتیب بارشوں کا سبب بنتا ہے۔

گرم سمندری درجہ حرارت اس لیے بھی فکرانگیز ہے کہ بحر ہند کی گرمی پاکستان کے مون سون کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔

مون سون وہ موسمی ہواؤں کا نظام ہے جو ہر سال جولائی سے ستمبر کے دوران بحر ہند سے نمی اٹھا کر پاکستان اور جنوبی ایشیا میں بارشیں لاتا ہے اور جس پر لاکھوں کسانوں کی فصلیں اور پینے کے پانی کا انحصار ہے۔
کلائمیٹ فنانس: وہ علم جو آپ کو ترقی کی بلندیوں تک لے جاسکتا ہے

آرکٹک برف کا ریکارڈ نیچے

موسمیاتی تبدیلی کا سب سے نمایاں اشارہ آرکٹک یعنی قطب شمالی سے آیا ہے۔

مارچ 2026 میں آرکٹک برف کا رقبہ 1991 سے 2020 کی اوسط سے 5.7 فیصد کم رہا جو اس مہینے کا اب تک کا سب سے کم ریکارڈ ہے۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ مارچ 2025 کے پاس تھا۔
آرکٹک زمین کا وہ شمالی قطبی خطہ ہے جہاں سال بھر سمندر کی سطح پر موٹی برف جمی رہتی ہے اور جو زمین کے موسمی توازن کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

آرکٹک برف کا پگھلنا اس لیے تشویشناک ہے کہ برف سورج کی روشنی واپس خلا میں پھینکتی ہے، جب برف کم ہو تو سمندر زیادہ گرمائش جذب کرتا ہے، جس سے گرمی مزید بڑھتی ہے اور یہ ایک ایسا چکر ہے جو خود کو تیز کرتا جاتا ہے۔ اس عمل کو سائنسی زبان میں البیڈو فیڈبیک کہتے ہیں۔

البیڈو فیڈبیک سے مراد وہ عمل ہے جس میں برف پگھلنے سے زیادہ گرمی جذب ہوتی ہے، مزید گرمی سے مزید برف پگھلتی ہے اور یوں یہ سلسلہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔

جنوبی قطب کی صورتحال

انٹارکٹکا یعنی قطب جنوبی میں بھی مارچ کا برف والارقبہ اوسط سے 10 فیصد کم رہا۔

انٹارکٹکا زمین کا جنوبی سرا ہے جو ایک براعظم کے برابر برف سے ڈھکا ہوا ہے اور جس کی برف پگھلنے سے دنیا بھر میں سمندر کی سطح بلند ہونے کا خطرہ ہے۔

کوپرنیکس نے واضح کیا کہ یہ کمی پچھلے چار سالوں کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے جب برف 20 سے 33 فیصد تک کم ہوئی تھی، تاہم صورتحال پھر بھی تشویشناک ہے۔

گرم ترین مارچ 2026

ال نینو کی واپسی کے آثار

کوپرنیکس کے مطابق موجودہ اعداد و شمار ال نینو کی طرف واضح رجحان ظاہر کر رہے ہیں۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ گلوبل وارمنگ اور ال نینو کا ایک ساتھ آنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یہ دونوں مل کر گرمی کو اور زیادہ شدید بنا دیتے ہیں، جیسا کہ 2024 میں دیکھا گیا جب دنیا نے اب تک کا سب سے گرم سال ریکارڈ کیا۔

اس موسمیاتی نظام کو ال نینو سدرن اوسیلیشن یعنی این سو بھی کہا جاتا ہے۔

این سو یا ال نینو سدرن اوسیلیشن بحرالکاہل کا وہ وسیع موسمی نظام ہے جو گرم اور ٹھنڈے مراحل کے درمیان ہلتا رہتا ہے اور جس کے اثرات پاکستان سے لے کر برازیل تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

پاکستان پر اثرات کیا ہوں گے؟

پاکستان دنیا کے کل کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے لیکن گلوبل وارمنگ کے نقصانات میں ہمارا ملک ہمیشہ سرفہرست رہتا ہے۔

کاربن اخراج سے مراد کوئلہ، پیٹرول اور گیس جلانے سے فضا میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسیں ہیں جو زمین کی گرمی بڑھانے کا سب سے بڑا سبب ہیں۔
بڑھتا ہوا سمندری درجہ حرارت پاکستان کے مون سون کو زیادہ شدید اور بے قابو بنا سکتا ہے جیسا کہ 2022 کے تباہ کن سیلابوں میں دیکھا گیا جب ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب آ گیا تھا۔ سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں خشک سالی اور گرمی کی لہروں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

گلگت بلتستان کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے پہلے دریاؤں میں طغیانی اور بعد میں پانی کی شدید قلت کا خطرہ ہے۔

گلیشیئر پہاڑوں پر جمی وہ برف کی دیوہیکل تہیں ہیں جو سال بھر آہستہ آہستہ پگھل کر دریاؤں کو پانی فراہم کرتی ہیں اور پاکستان کے تین بڑے دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کا بڑا حصہ انہی گلیشیئروں سے آتا ہے۔

ساحلی علاقوں خاص طور پر کراچی اور ٹھٹہ کے گرد سمندر کی سطح بلند ہونے سے آبادیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

حکومتوں کو کیا کرنا چاہیے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اس طرح کے گرم مہینے آہستہ آہستہ معمول بن جائیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیلاب سے بچاؤ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا جائے، زراعت اور پانی کے انتظام کو موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھالا جائے اور فوسل فیول یعنی کوئلہ و تیل پر انحصار کم کر کے شمسی اور ہوائی توانائی کی طرف بڑھا جائے۔
فوسل فیول یعنی جیواشم ایندھن سے مراد کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس ہیں جو زمین میں کروڑوں سال سے دبے ہوئے تھے اور جن کو جلانے سے سب سے زیادہ کاربن فضا میں خارج ہوتی ہے۔
اگر آپ کو یہ خبر اہم اور مفید لگی تو اسے اپنے دوستوں، خاندان اور سوشل میڈیا پر ضرور شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی اس اہم مسئلے سے آگاہ ہو سکیں۔ نیچے کمنٹ میں بتائیں کہ آپ کے شہر یا علاقے میں پچھلے چند سالوں میں موسم کس طرح بدلا ہے، کیا گرمی پہلے سے زیادہ ہے، بارشیں بے وقت ہو رہی ہیں یا سردی کا موسم سکڑتا جا رہا ہے۔ آپ کا ذاتی تجربہ دوسروں کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
یہ بلاگ اردو زبان میں موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی مسائل پر شعور اجاگر کرنے کے لیے بغیر کسی ادارے یا فنڈنگ کے اپنی مدد آپ کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ اگر آپ اس کام کو سراہتے ہیں تو اس پوسٹ کی شیئرنگ ہی ہماری سب سے بڑی مدد ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *